Tuesday, 22 September 2020, 10:10:28 am
وزیراعظم آزادجموں وکشمیر راجہ فاروق حیدرخان کی پاکستانی خواتین اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات
August 04, 2020

فائل فوٹو

وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان سے آزادجموں وکشمیر کے دورہ پر آئی ہوئی پاکستان کی خواتین اراکین پارلیمنٹ نے ملاقات کی ۔ 

وزیر اعظم آزادکشمیرنے خواتین اراکین پارلیمنٹ کو تحریک آزادی کشمیرکے تاریخی پس منظر کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی ۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر نے کہا کہ کشمیری قائد اعظم کے ساتھ کیے گئے اپنے عہد پر قائم ہیں ۔
کشمیریوں نے جو تحریک 13جولائی 1931میں شروع کی تھی آج بھی پورے عزم اور جذبے کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مہندی لگے ہاتھوں میں پتھر اٹھائے کشمیری بیٹیاں جرات اور بہادری کی بہترین مثال ہیں ۔
کشمیری خواتین نے تحریک آزادی میں جو قربانیاں دی ہیں عصر حاضر میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ اجتماعی آبروریز کے واقعات مہذب دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہیں ۔ کشمیری عورت پر ہونے والے مظالم پر اقوام عالم کی خاموشی دوہرے معیار کی عکاسی ہے ۔
وزیر اعظم نے کہاکہ 10ہزار خواتین کے شوہرلا پتہ ہیں ۔ ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا ہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ 13جولائی کو شہید ہونے والے ہر شخص کی چھاتی میں گولی لگی تھی ۔ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں مرد و زن سینہ تان کر دنیاکی چھوتی بڑی فوج کا دیوانہ وار مقابلہ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کو حضرت قائد اعظم سے والہانہ عقیدت تھی ۔1944میں جب قائد اعظم کشمیر آئے تو ان کا جو استقبال کیا گیا وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہر سال یکجہتی منانے پر ملت اسلامیہ پاکستان کے شکرگزار ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کے معاملے پر ہمیں جارحانہ انداز سے آگے بڑھنا چاہیے۔کشمیریوں کی قربانیاں دنیا بھر میں اجاگر ہونے لگیں تھیں کہ کرونا کے باعث ساری سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر نے پاکستان کا حصہ بننا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر کی مائیں بہنیں ہمیں پکار رہی ہیں ۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔ خواتین کے پارلیمانی وفد کی قیادت ثوبیہ کمال نے کی جبکہ وفد میں ڈاکٹر شازیہ، ثوبیہ اسلم سومرہ، کشور زہرا، عاصمہ قدیر، نورین فاروق ابراہیم،کیشو بائی، سیمی زیدی، ثمینہ بیگ شامل تھیں ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ثوبیہ کمال نے کہاکہ ہم پوری کوشش کرینگے کہ کرونا سے پہلے کشمیر کا معاملہ جس طرح ہائی لائٹ ہو ا تھا اس کو دوبارہ اسی سطح پر لیکر آئیں ۔ انہوں نے کہاکہ بانی پاکستان کے بتائے ہوئے اصولوں ایمان ، اتحاد اور تنظیم پر عمل پیرا ہو کر ہم اپنی منزل حاصل کر سکتے ہیں ۔ آدھی بیوہ کا تصور انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ مسائل کا حل اتحاد و اتفاق میں ہے ، ملکر جو آواز نکلتی ہے وہ بااثر ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ کشمیر کا سفیر ہوں وہ تیسری دفعہ اسمبلی سے خطاب کرنے کیلئے آرہے ہیں ۔