مشیر خارجہ سرتاج عزیزاپنے دورہ کے دوران افغان قیادت سے اہم دوطرفہ امور پر مشاورت کریں گے۔

سرتاج عزیز جمعہ کو کابل کا دورہ کریں گے
03 ستمبر 2015 (15:58)
0

مشیرخارجہ سرتاج عزیز کل افغانستان کے دورے کے دوران باہمی اعتماد کی بحالی اور افغانوں کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی حمایت کا اعادہ کریںگے۔

دفترخارجہ کے ذرائع کے مطابق مشیر خارجہ افغان قیادت سے بعض افغان لیڈروں کی طرف سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا ختم کرنے پر بھی زوردیںگے۔  ذرائع کاکہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ اس نے مخالفین کے الزامات کے جواب میں ویسا طرز عمل نہیں اپنایا۔

سرتاج عزیز افغان قیادت کو بتائیںگے کہ پاکستان افغانوں کے مذاکرات میں سہولت کار کا کردارادا کرتا رہے گا کیونکہ ہمسایہ ملک میں دیرپا امن صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔  ذرائع کے مطابق افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے کیونکہ بین الاقوامی امن فوج ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کی موجودگی کے باوجود اس کوبحال نہیں کراسکی۔

ذرائع نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا کہ افغانستان میں سرگرم حقانی گروپ اب بھی پاکستان سے کارروائیاں کررہا ہے اورکہا کہ اس کی کمر پہلے ہی توڑی جاچکی ہے۔  ذرائع نے بتایا کہ پاکستان شمالی وزیرستان سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنے ناکافی وسائل کے ذریعے بھی بھاری رقم خرچ کررہا ہے اور تمام دہشت گردوں کو بلاامتیاز نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی (را) اورافغانستان کے قومی سلامتی کے ادارے کے درمیان قریبی روابط ہیں۔