ممنون حسین نے کہاہے کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کے ساتھ ساتھ عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے فیصلے کرنے چاہئیں۔

 قوم ہرقیمت پردہشتگردوں کےخاتمے کےمعاملے پرمتحد رہے:صدر
03 جون 2015 (11:35)
0

صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان آخری دہشتگرد کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔  جمعرات کو تیسرے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم ہر قیمت پر دہشت گردوں کے خاتمے کے معاملے پر متحد رہے۔ انہوں نے ہمارے کل کیلئے اپنا آج قربان کرنے والے شہداء کیلئے زبردست خراج عقیدت پیش کیااور ان کے لواحقین کو یقین دلایا کہ قوم ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔


صدر نے پچھلے دو سال کے دوران شاندار کارکردگی پر پارلیمنٹ کو سراہا اور کہا کہ پارلیمنٹ کو نہ صرف قانون سازی کیلئے سخت محنت کرنی چاہئیے بلکہ اسے عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے فیصلے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ شمالی وزیرستان کے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے۔
ممنون حسین نے معیشت کی بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے پر حکومت کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں معیشت مزید مضبوط ہو گی جس سے عوام کی سماجی و معاشی حالت بہتر ہوگی۔

ملک میں نئے مواقع پیدا ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری ایک اہم منصوبہ ہے اور ملک کے تمام علاقوں کی مجموعی سماجی واقتصادی ترقی کی غرض سے اس منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بڑے منصوبے پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے اتفاق رائے کو سراہا۔

 

اقتصادی بحالی کیلئے حکومت کی مربوط پالیسیوں کو سراہتے ہوئے صدر نے امید ظاہر کی کہ آنے والے وقت میں معیشت مزید مضبوط ہو گی جس سے عوام کی سماجی واقتصادی حالت بہتر ہوگی انہوں نے کہا کہ شرح منافع میں ریکارڈ کمی سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر ، ترسیلات زر اور اقتصادی راہداری کیلئے چین کی طرف سے چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے سمیت بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ حکومت کی نمایاں کامیابیاں ہیں۔

صدر نے حکومت سے کہا کہ وہ آئندہ بجٹ میں تعلیم کے شعبے کیلئے مزید وسائل مختص کرے کیونکہ ہمارے تمام مسائل کا حل اس اہم شعبے کی ترقی میں مضمر ہے۔ صدر نے ملک کی آمدن بڑھانے کیلئے ٹیکس کا دائرہ بڑھانے پر زور دیا۔  صدر نے سادگی کی پالیسی اختیار کرنے اور وسائل کا رخ کشمیر ، گلگت بلتستان اور قبائلی علاقوں سمیت پسماندہ علاقوں کی تیز تر ترقی کی جانب موڑنے پر حکومت کی تعریف کی۔


انہوں نے توانائی کی قلت پر قابو پانے کیلئے کوئلے ، گیس ، ہوا، سورج اور ایٹمی توانائی سمیت کثیرجہتی ذرائع سے مزید بجلی پیدا کرنے سے متعلق حکومت کی کوششوں کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو توانائی کے شعبے میں بجلی کے ضیاع پر قابو پانے پر بھی توجہ دینی چاہئیے۔ انہوں نے آبی بحران سے نمٹنے کیلئے اتفاق رائے سے چھوٹے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر پر مزید توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ برابری اور باہمی احترام پر مبنی دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہماری نیک نیتی کا نتیجہ ہے جس سے افغانستان کے ساتھ دوستی کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ تعلقات کے نئے آغاز سے دیرپا امن اور سلامتی سمیت تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔

صدر نے کہا کہ بھارت کے ساتھ باہمی تعاون کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات ہماری ترجیح ہے تاہم بھارت کو کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام مسلمان ملکوں بالخصوص سعودی عرب ، ترکی اور ایران کے ساتھ خوشگوار برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔  ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان گزشتہ چھ عشروں سے انتہائی خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور چینی صدر کے حالیہ دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت ملے گی۔


انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر خصوصی تعلقات قائم ہیں انہوں نے کہا کہ یورپی ملکوں کے ساتھ بھی ہمارے کثیر الجہتی تعلقات ہیں جبکہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے اور اسکے ساتھ تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کیلئے کام کر رہا ہے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان دوسرے ملکوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے پر مبنی خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور آذربائیجان ، کرغزستان ، ترکمانستان ، تاجکستان ، بیلاروس اور نائیجیریا کے ساتھ تعاون کی نئی راہیں کھل چکی ہیں۔