ممنون حسین نے کہاہے کہ دونوں ممالک میں تجارتی حجم کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

`پاکستان ترکمانستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتاہے:صدر مملکت
03 اگست 2016 (15:06)
0

صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے ترکمانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں جس کی بنیادی وجہ مشترکہ عقیدہ، ثقافت اور روایات ہیں اور پاکستان ان تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتاہے۔صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہارآج ترکمانستان پارلیمنٹ کی چیئر پرسن محترمہ اکجانربردیوا کی قیادت میں وفد سے ایوان صدر میں ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی موجود تھے۔صدر مملکت نے زور دیا کہ دونوں ملکوں کے پارلیمانی ممبران اور کمیٹیوں کے مابین مضبوط روابط ہونے چاہئیں ۔
صدر مملکت نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ممالک میں تجارتی حجم صلاحیت سے کم ہے جس کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ تجارت کے فروغ کے لیے سرمایہ کاروں کوآسان ویزے کی سہولیات دی جائیں تاکہ باہمی تجارت میں اضافہ ہو۔صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کی عوام کے باہمی روابط کے لیے کاروباری حضرات اور سیاحوں کی سہولت کے لیے ہوائی جہاز کی سروس شروع کی جانی چاہیے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ترکمانستان۔افغانستان ۔ پاکستان - بھارت(تاپی) گیس پائپ لائن منصوبہ علاقائی توانائی کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور پاکستان اس منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔ صدر مملکت نے ترکمانستان کی جانب سے0100 میگاواٹ بجلی کی پیش کش کا شکریہ ادا کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری اور ٹاپی منصوبے سے پورے خطے میں خوشحالی آئے گی اورعلاقائی روابط کے ذریعے ان مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ترکمانستان پارلیمنٹ کی چیئر پرسن اکجانربردیوا نے کہا کہ ترکمانستان پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کا خواہش مند ہے جو دونوں ممالک کے مفادمیں ہے۔ انہوں نے صدر مملکت کو بتایا کہ ترکمانستان علاقائی ممالک کو بجلی فراہم کرنے کے لئے تاپی گیس پائپ لائن کے ساتھ ساتھ بجلی کی لائن بچھانے پر کام کر رہا ہے۔صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ وفدکا اسلام آباد میں قیام خوشگوار اوریاد گار ہو گا۔

دریں اثناء صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن ،استحکام اور خوشحالی کی خاطر اپنے ہمسائیوں سمیت تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ وہ ڈنمارک ، ملاوی اور سلوویکیا کے نامزد سفیروں سے گفتگو کررہے تھے جنہوں نے ایوان صدر اسلام آباد میں ایک تقریب میں انہیں اسناد سفارت پیش کیں۔
صدر نے کہا کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں اور اس نے اس برائی کے خاتمے کا عزم کررکھا ہے۔
ممنون حسین نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب میں کامیابی سے پیشرفت ہورہی ہے جو آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کیلئے مقرر ہونے والے نئے سفیروں کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے ملکوں کے موجودہ روابط مزید مضبوط بنانے کیلئے کام کریں گے۔ جن سفیروں نے اپنی اسناد پیش کیں ان میں ڈنمارک کے سفیرOle Thonke، ملاوی کے سفیرWilfred Ali اور جمہوریہ سلوویکیا کے سفیرLubomir Golian شامل تھے۔