Wednesday, 20 November 2019, 08:16:25 pm
گوردوارہ دربار صاحب کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش مکمل،باضابطہ افتتاح 9نومبر کو ہوگا
November 04, 2019

گورونانک کے پانچ سو پچاسویں جنم دن کی تقریبات کے موقع پر آئندہ ہفتے کے روز گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا۔یہ اہم منصوبہ وزیراعظم کی ہدایات پر شروع کیا گیا ہے جو خطے کے لئے قیام امن کا اقدام ہے۔اس پورے منصوبے کے اخراجات حکومت پاکستان نے برداشت کیے ہیں اور یہ سکھ برادری کیلئے ایک تحفہ ہے۔پاکستان اور بھارتی حکام کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے مطابق یہ منصوبہ مرحلہ وار مکمل کیا جائیگا ۔پہلے مرحلے میں پل' ٹرمینل اور دوسرے بنیادی ڈھانچے پر مشتمل عمارت تعمیر کی گئی ہے۔دوسرے مرحلے میں عمارت کو توسیع دی جائے گی اور مزید افراد کے لئے ہوٹل اور اپارٹمنٹ تعمیر کیے جائیں گے۔زائرین کی سہولت کے لئے کمرشل ایریاز بھی قائم کیے جائیں گے۔کرتارپور راہداری کے تحت منصوبے کے لئے آٹھ سو ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے جس میں سے ایک سو چار ایکڑ عمارت اور اسی کے لان کے لئے جبکہ چھتیس ایکڑ شجرکاری کیلئے استعمال ہورہی ہے۔باقی حصہ پل' ٹرمینل اور راہداریوں کے لئے استعمال ہوگا اس سے قبل گردوارہ محض چار ایکڑ اراضی پر محیط تھا۔ایک لائبریری اور میوزیم بھی تعمیر کیا گیا ہے جہاں قیمتی نوادرات رکھی جائیں گی۔ایک لنگر خانہ بھی قائم کیا گیا ہے جہاں ایک وقت میں دو سے ڈھائی ہزار افراد کھانا کھاسکتے ہیں۔جذبہ خیر سگالی کے طو ر ابتدائی دس روز لنگر خانے میں مفت کھانا فراہم کیاجائے گا۔دنیابھر سے سکھ برادری نے کرتارپور راہداری کھولنے پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔سکھ یاتریوں کو دورے کیلئے ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ ہی بھارتی سکھ یاتریوں کو اپنا پاسپورٹ لانے کی ضرورت ہوگی انہیں پاکستان میں داخلے کے لئے صرف ایک مستند شناختی کارڈ درکار ہوگا۔بھارتی یاتریوں کا استقبال بھارتی سرحد پر کیا جائے گا جس کے بعد انہیں بائیو میٹرک رجسٹریشن کیلئے ٹرمینل پر لے جایا جائے گا اور پھر بسوں میں گوردوارے پہنچایا جائے گا۔ابتدائی طور پر بھارت سے روزانہ پانچ سو یاتریوں کی آمد متوقع تھی تاہم راہداری کھلنے سے پہلے ہی یہ تعداد بڑھ کر پانچ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ یاتریوں نے اپنے مقدس مقام آنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔یاترا سال کے 365 دن جاری رہے گی