ریڈیو پاکستان کے حالات حاضرہ کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس نے کہا کہ وزیراعظم کے پالیسی بیان میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کی حمایت کرتا ہے۔

رائے عامہ کے رہنمائوں کاوزیراعظم کےخطاب کےخیرمقدم کاسلسلہ جاری
02 اکتوبر 2015 (12:41)
0

رائےعامہ کےرہنمائوں اورممتازتجزیہ کاروں کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم محمد نواز شریف کے خطاب کےخیرمقدم کاسلسلہ جاری ہے۔ریڈیو پاکستان کے حالات حاضرہ کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز سے اٹھانا انتہائی مثبت اقدام ہے۔

انہوں نےکہا کہ وزیراعظم نے کشمیری عوام کو ایک نئی امیددی ہے۔پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس نے کہا وزیراعظم کے پالیسی بیان میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کی حمایت کرتا ہے۔دفاعی تجزیہ کار ائر مارشل ریٹائرڈ شاہد لطیف نے کہا کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کشمیر ایک بنیادی مسئلہ ہے اورجب تک یہ حل نہیں ہوتا پرامن جنوبی ایشیا کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔


سینئر دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر پرویز اقبال چیمہ نے کہاکہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںمختصر مگر جامع خطاب میں مخصوص معاملات پر پاکستان کے نقطہ نظر کو انتہائی موثر انداز میں پیش کیا۔سابق سفیر اور سینئر سیاستدان سیدہ عابدہ حسین نے کہا کہ وزیراعظم کا خطاب انتہائی جامع تھا۔


مسلم لیگ نون کی رہنما مائزہ حمید نے کہاکہ وزیراعظم نواز شریف نے درست کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے کیلئے تیار ہے۔

===========================


زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے وزیراعظم محمد نواز شریف کے خطاب کو سراہاہے۔محنت کش طبقے نے بھی عالمی ادارے میں پاکستانیوں اورکشمیریوں کی حقیقی نمائندگی کرنے پر وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔


پاکستان ریلوے کی ایمپلائزیونین کے سینئر نائب صدر شیخ محمد انور نے کہا کہ اقوام متحدہ میں تنازعہ کشمیر کے فوری اور پرامن حل کو جس طرح سے اجاگر کیا گیا ہے وہ وزیراعظم کا انتہائی جراتمندانہ اقدام ہے۔


انہوں نے کہا پاکستان اوربھارت کے درمیان پرامن تعلقات سے نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے قیام میںمدد ملے گی بلکہ اس سے اقتصادی ترقی اور عوامی خوشحالی کے دوررس اثرات بھی مرتب ہوں گے۔