کیٹی بندرگارہ کو پاک چین اقتصادی راہداری میں شامل کرنے اور پمز ہسپتال کی خالی آسامیاں پر کرنے کی قرارداد بھی منظور۔

سینیٹ:بلوچستان کے درآمد کنندگان کیلئے کسٹم ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں رعائت کی سفارش
02 نومبر 2015 (19:09)
0

سینٹ کا اجلاس اسلام آباد میں پیر کو دوبارہ شروع ہوا ۔ اجلاس کے آغاز میں چیئرمین سینٹ نے اعلان کیا کہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے سنیٹرز نے اپنے استعفے واپس لے لئے ہیں۔ وہ اس سال اگست میں احتجاجاً مستعفی ہو گئے تھے۔
ایم کیو ایم کے سنیٹرز آج ایوان کی کارروائی میں شریک ہیں۔
چیئرمین سینٹ نے کہا کہ اس بارے میں ٹھوس وجوہات سامنے آئی ہیں کہ استعفے رضاکارانہ طور پر نہیں دئیے گئے تھے اور ان کا مقصد محض نشستیں خالی کرنا نہیں تھا۔
قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے کہا کہ 1917 میں آج ہی کے دن برطانوی حکومت نے یہودی تنظیموں کو ایک خط لکھا تھا جس میں فلسطین میں یہودی بستیاں قائم کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس اعلامیے پر فلسطینیوں کے مسائل کی ابتداء ہوئی تھی اور اس دن سے فلسطینی عوام ناانصافیوں کا شکار ہیں۔
چیئرمین نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف مظالم اور ناانصافیوں سے مغربی ممالک کا دوہرا معیار ظاہر ہوتا ہے۔
سید طاہر حسین مشہدی نے ایم کیو ایم کے ارکان پارلیمنٹ کے استعفوں کی واپسی کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف اور الطاف حسین کی بصیرت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پارلیمنٹ اور پاکستان کی سا لمیت کا احترام کرتی ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے ایوان کو بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے بارے میں تفصیلی سروے رپورٹ آئندہ چند دن میں پیش کئے جانے کی توقع ہے
ایوان میں زلزلے اور امدادی کارروائیوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی اور خیبر پختونخواء حکومت مسلح افواج اور ہنگامی امدادی ادارہ متاثرین کی مشکلات میں کمی کیلئے تمام کوششیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف خود امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی مشاورت سے جاں بحق و زخمی افراد اور گھروں کی تباہی پر امدادی رقوم کا اعلان بھی کیا ہے۔
بعض ارکان نے اپنے تقاریر میں کہا کہ امدادی کارروائیوں اتنی موثر نہیں جتنی ہونا چاہئیے تھیں۔
اظہار خیال کرنے والوں میں طلحہ محمود ، نعمان وزیر ، سراج الحق ، عثمان خان کاکڑ ، احمد حسن ، اعظم خان سواتی ، سید طاہر حسین مشہدی ، سردار اعظم خان موسیٰ خیل اور میاں عتیق شیخ شامل تھے۔
چیئرمین نے معاملہ کابینہ کے بارے میں ایوان کی قائمہ کمیٹی کو بھجواتے ہوئے آئندہ منگل تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ قانون وانصاف کی قائمہ کمیٹی وفاقی محکموں میں بدعنوانی کے بارے میں کمیٹی کی رپورٹ پر عملدرآمد کی نگرانی کیلئے غیرجانبدار خصوصی معاون کے طور پر کام کرے گی۔
تاج حیدر کی طرف سے پیش کیا گیا قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا بل مزید غوروخوض کیلئے قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔

ایوان نے ایک قرارداد منظور کی جس میں حکومت کو بلوچستان کے درآمد کنندگان کیلئے کسٹم ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں رعایت کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر شاہد خاقان عباسی نے قرارداد پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو پہلے ہی کئی رعائتیں دی گئی ہیں اور اگر ایوان مزید رعایت دینے کی سفارش کرے تو حکومت اس پر غور کرے گی۔
ایوان نے ایک اور قرارداد کی منظوری دی جس میں سندھ میں کیٹی بندر کی بندرگاہ کو پاک چین اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔ قرارداد سسی پلیجو نے پیش کی تھی۔
ایوان نے ایک اور قرارداد کی منظوری دی جس میں پمز میں تمام آسامیاں صوبائی اور علاقائی کوٹے کے تحت فوری طور پر پر کرنے کی سفارش کی گئی۔ قرارداد محمد اعظم خان موسیٰ خیل نے پیش کی۔
کلثوم پروین کی جانب سے پیش کردہ ایک اور قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں حکومت سے آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کے تحت باقی تمام منصوبوں کی تکمیل یقینی بنانے کی سفارش کی گئی۔
پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر شاہد خاقان عباسی اور پارلیمانی امور کے وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی حکوموت میں ملازمتوں کیلئے بلوچستان کا کوٹہ ساڑھے تین فیصد سے بڑھا کر چھ فیصد کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دو ہزار پانچ سو گیارہ طلباء کو وظائف دئیے گئے ہیں جبکہ پانچ ہزار اساتذہ کو مستقل کیا گیا ہے اور پانچ ہزار اسی طلباء کو فنی تربیت بھی دی گئی ہے۔