بحث میں حصہ لیتے ہوئے مختلف ارکان نے کہاکہ ججوں کی تعیناتی کے عمل کی نگرانی کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے فیصلوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے

02 دسمبر 2013 (20:22)
0

 سینیٹ میں پیر کے روزاعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق ایک تحریک پر دوبارہ بحث شروع ہوئی جوفرحت اللہ بابر نے پیش کی۔
تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مختلف ارکان نے کہاکہ ججوں کی تعیناتی کے عمل کی نگرانی کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے فیصلوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ججوں کی تعیناتی پارلیمانی کمیٹی کے مشورے کے بغیر ہورہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کمیٹی کو زیاد ہ موثر بنایا جائے اور اس کے فیصلوں کا احترام کیا جائے۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ حکومت اور حزب اختلاف کے چار چار ارکان پر مشتمل   آٹھ رکنی کمیٹی غیر فعال ہوکر رہ گئی ہے۔
سینیٹ کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس بلاکر اس مسئلے کا جائزہ لیا جائے اور اس کے حل کیلئے ایکٹ منظور کیا۔
قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے ایوان میں بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ ریاست کے اداروں میں کوئی تنازع نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دیانتدار افراد کواعلیٰ عدالتوں کا جج مقرر کیا جائے۔
اس موقع پر سید غنی ' کریم احمد خواجہ ' زاہد خان ' حاجی محمد عدیل ' مشاہد حسین سید ' رضاربانی اور سید ظفرعلی شاہ نے اظہار خیال کیا۔
اس سے پہلے سینٹ کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے فیصلہ کیاک ہے کہ موجودہ اجلاس آئندہ دو ہفتے تک جاری رہے گا۔
سینٹ کے قائد ایوان راجہ ظفر الحق ' سینیٹر اعتزاز احسن اور دوسرے ارکان نے اجلاس میں شرکت کی۔
 سینٹ میں سرکاری ملازمین کا ترمیمی بل2013 پیش کیا گیا۔
یہ بل الیاس احمد بلور نے پیش کیا جس میں سرکاری ملازمین کے ایکٹ1973 میں ترمیم کرنے کو کہا گیا ہے۔
چیئرمین نے بل ایوان کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
سینٹ میں امور خارجہ کے بارے میں قائمہ کمیٹی کی رکن سیدہ صغریٰ امام نے ایوان میں کمیٹی کے ترکی کے دورے کی رپورٹ پیش کی۔
ایوان کا اجلاس اب کل دن کے گیارہ بجے ہوگا۔