ممنون حسین نے قوموں کی برادری خصوصاً ہمسایہ ملکوں کو اقتصادی تعاون کے بنیادی اصول پر متفق ہونے کی دعوت دی ہے۔

صدر کا سیاسی جماعتوں پر وژن 2025 پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور
01 جون 2017 (14:33)
0

صدر ممنون حسین نے تجویز دی ہے کہ حکومت ، حزب اختلاف اور تمام سیاسی جماعتوں کو ویژن 2025 کو اتفاق رائے سے قومی منصوبہ قرار دینا چاہئے تاکہ عوامی فلاح وبہبود کا عمل کسی قیمت پر متاثر نہ ہو۔وہ آج اسلام آباد میں نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔
صدر نے کہا کہ مستقبل پر نظر رکھنے والی قومیں پائیدار ترقی کے لئے انسانی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں خطیر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی بہتری سے متعلق پروگراموں کی تعریف کی۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کا دفاعی پیداوار کا شعبہ بہتر کارکردگی کا مظاہر کر رہا ہے۔
انہوں نے آزادکشمیر ، فاٹا ، گلگت بلتستان کے پسماندہ علاقوں کو ملک کے دوسرے حصوں کے برابر لانے کے لئے خطیر فنڈز مختص کرنے کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈ ہے۔
صدر نے کہا کہ استصواب رائے ہی کشمیر کے نتازعے کا واحد حل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری بھائیوں کی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ممنون حسین نے کہا کہ بھارت کنٹرول لائن پر مسلسل جارحیت کر رہا ہے جس کے نتیجے میں بھاری جانی ومالی نقصان ہوا ہے۔ صدر نے دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے افغان قیادت کو باہمی تعاون سے سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسلمان ملکوں خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ نئے رابطے قائم کئے ہیں جس سے دوطرفہ تعلقات کومزید فروغ دینے کی راہ ہموار ہوگی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضرب عضب کی طرح آپریشن ردالفساد بھی جلد مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو گا۔
صدر نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود قومی اتحاد کی علامت بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام قومی معاملات پارلیمنٹ میں حل کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ کو قومی اہداف کے حصول کا ذریعہ بنانے کیلئے مل کر کام کرنا چاہئیے۔حزب اختلاف کے ارکان نے صدر کے خطاب کے دوران ہنگامہ آرائی کی اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
مشترکہ اجلاس غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔