اُنہوں نے ایک بیان میں اس رپورٹ کو قطعی بے بنیاد، من گھڑت اور بلاجواز قراردیا

ریڈیوپاکستان نےعلاقائی زبانوں کی کوئی نشریات بند نہیں کیں:ترجمان
01 جون 2014 (20:41)
0

ریڈیوپاکستان نے علاقائی زبانوں کی کوئی نشریات بند نہیں کیں ۔
ریڈیوپاکستان کے ترجمان نے بعض اخبارات (روزنامہ ڈان )میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ پر کڑی نکتہ چینی کی ہے جس میں کہاگیا ہے کہ قومی نشریاتی ادارے نے اپنی علاقائی زبانوں کی تمام نشریات بند کردی ہیں اور اپنے خبروں اور حالات حاضرہ کے چینل کے تمام مستقل عملے کو برطرف کردیاہے ۔
اُنہوں نے اتوار کو ایک بیان میں اس رپورٹ کو قطعی بے بنیاد، من گھڑت اور بلاجواز قراردیا جس کا مقصد محض انتشار اور اُلجھن پیدا کرنا ہے ۔
ترجمان نے حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ریڈیوپاکستان کا خبروں اور حالات حاضرہ کا چینل1999میں شروع کیاگیا جس کا مقصد ذرائع ابلاغ کے اس دور میں مقامی اور غیر ملکی الیکٹرانک چینلز کا مقابلہ کرنا تھا ۔ اس کیلئے باضابطہ طور پر ایک کنسلٹنٹ کا تقرر کیاگیا۔
تاہم اگست2008 میں ریڈیوپاکستان کی اس وقت کی انتظامیہ نے اس چینل کے اصل اغراض و مقاصد سے انحراف کرتے ہوئے اسے تفریحی اور حالات حاضرہ کے چینل میں تبدیل کر کے اسے الگ حیثیت میں نیشنل براڈ کاسٹنگ سروس کا نام دے دیا جو ریڈیوپاکستان کے متوازی تھا۔
تاہم پی بی سی کی موجودہ انتظامیہ نے اس چینل N.C.A.Cکا اصل نام اور حیثیت بحال کردی تاکہ اس کے حقیقی اغراض و مقاصد پورے کئے جاسکیں اور یہ ملک اور بیرون ملک حالات حاضرہ کے دوسرے چینلوں کا مقابلہ کرسکے ۔ سامعین کی بے شمار آراء سے اس امر کی تصدیق ہوگئی ہے کہ موجودہ انتظامیہ کا فیصلہ درست تھا۔
نام نہاد این بی ایس چینل کا دورانیہ چھ گھنٹے تھا جس میں زیادہ تر ریکارڈ کئے گئے پروگرام نشر کئے جاتے تھے لیکن این سی اے سی کی بحالی کے بعد نشریات کا دورانیہ تیرہ گھنٹے کردیاگیا جو صبح سات بجے سے رات نو بجے تک تھا۔ اس کے علاوہ صبح کے اوقات میں دو گھنٹے کی نشریات صوت القرآن چینل کیلئے وقف ہیں ۔
علاوہ ازیں ، علاقائی یونٹ قومی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اپنی متعلقہ علاقائی زبانوں میں دن گیارہ بجے سے دوپہر ایک بجے تک دوگھنٹے حالات حاضرہ کے پروگرام نشر کررہے ہیںجس پر سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا۔
مستقل عملے کی برطرفی کے بارے میں ترجمان نے وضاحت کی کہ موجودہ انتظامیہ نے کسی کو بھی برطرف نہیں کیااور نہ اس کا ایسا کوئی ارادہ ہے بلکہ انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ اس کے پروڈیوسرہنرمند اوربا صلاحیت ہیں اور وہ ادارے کیلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں ۔ چونکہ حالات حاضرہ خالصتاََ شعبہ خبر سے متعلق موضوع ہے اس لئے این بی ایس کے نان پروفیشنل پروڈیوسر جو پروگرام اور دوسرے شعبوں سے لئے گئے تھے اپنے متعلقہ شعبوں میں واپس بھیج دیئے گئے ہیں تاکہ وہ اپنی مہارت اور توانائیاں تفریح ، ڈرامے اور موسیقی کے اصل شعبوں میں صرف کرسکیں ۔ حال ہی میں این سی اے سی ٹرانسفر کئے گئے خبروں کے شعبے کے ماہرین اپنے شعبے کی ممتاز شخصیات ہیں جو خبروں اور حالات حاضرہ کے شعبے میں پچیس سے تیس سال کا تجربہ رکھتے ہیں ۔
این سی اے سی میں خطیرمعاوضے پر بھرتی کئے گئے دس ناتجربہ کار افراد کی شمولیت کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ صحافی نے ان افراد میں سے کسی ایک کا بھی نام نہیں بتایا۔ اگر ایسی کوئی بات تھی تو صحافی کو کم از کم اس کے دستاویزی ثبوت پیش کرنے چاہئے تھے ۔ شعبہ پروگرام سے پروفیسروں ، دانشوروں ، تجزیہ نگاروں اور اینکرز کو این سی اے سی بھیجاگیا جن کا مقصد صرف نشریات چلانا نہیں بلکہ صرف تحقیق کے مقاصد کیلئے حالات حاضرہ کے پروگراموںکا معیار بہتر بنانا ہے ۔
ریڈیوپاکستان کے ترجمان نے وضاحت کی کہ ریڈیوپاکستان کا کوئی ایف ایم چینل حالات حاضرہ کے پروگرام نشر نہیں کرتا تاہم این سی اے سی کے پروگرام گیارہ سو باون کلو ہرٹز کی فریکوئنسی پر پاکستان بھر اور ہمسایہ ملکوں کے ملحقہ علاقوں میں سنے جاسکتے ہیں ۔
ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں اس بات کی تردید کی کہ کوئی نشریات بند ہوئی ہیں ۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ متعلقہ صحافی نے ریڈیوپاکستان کی ڈائریکٹر جنرل ثمینہ پرویز کے بیان کو غلط رنگ دیاکہ تقریباََ چھ ماہ کے بعد ایک نیاطاقتور ٹرانسمیٹر دستیاب ہوگا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ریڈیوپاکستان کا ایک نہیں بلکہ چار ٹرانسمیٹر چھ ماہ میں نہیں بلکہ اسی سال اگست میں کام کرنا شروع کردیں گے ۔ یہ ٹرانسمیٹر حیدر آباد، ڈیرہ اسماعیل خان اور فقیر آباد میں لگائے جارہے ہیں ۔
صحافی کی طرف سے کئے گئے دعوئوں کے بارے میں ترجمان نے وضاحت کی کہ قابل احترام ڈائریکٹر جنرل نے کسی پروگرام کو بند کرنے یا ٹرانسمیٹرز کی قلت کی کوئی بات نہیں کی ۔ ادارہ پُرانے ٹرانسمیٹر تبدیل کر کے نئے ڈیجیٹائزڈ ٹرانسیمیٹر لگارہا ہے ۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے صحافی سے کہا کہ وہ پیر کو مکمل پروگرام شیڈول صحافی کو فراہم کرنے کو تیار ہیں ۔
خبر میں ادارے کے سابق ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے کئے گئے دعوئوں کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ جون دوہزار آٹھ سے اپریل دوہزار تیرہ تک خطیر ٹی اے ڈی اے کے ساتھ کئے گئے ٹرانسفر اور عملے کو ہراساں کرنے کیلئے اظہار وجوہ کے نوٹسز اور چارج شیٹ کا اجرا ء روک دیاگیاہے اور ادارے میں مالیاتی نظم وضبط قائم کردیاگیا ہے موجودہ انتظامیہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور دوسرے واجبات کی ادائیگی کررہی ہے جو سابقہ انتظامیہ کی اندھا دھند فضول خرچی کے باعث رکی ہوئی تھی،
آخر میں ترجمان نے صحافی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ساکھ برقرار رکھنے کیلئے خبر کی اشاعت سے پہلے حقائق کی تصدیق کرلیاکریں ۔ سرکاری نشریاتی ادارہ ہونے کے ناطے ریڈیوپاکستان حقائق کی غلط رپورٹنگ اور قابل احترام ڈائریکٹر جنرل کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر متعلقہ صحافی کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتاہے ۔

محمود ریاض الدین
ہیڈ پریس پبلیکشنز اینڈ پریس ریلیشنز
ریڈیوپاکستان اسلام آباد
CELL:03005283060