صدر نے کہا کہ عوام نے پارلیمنٹ کو ووٹ دیکر اعتماد کا اظہار کیا اور وہ اسکے بدلے میں اپنی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی چاہتے ہیں ۔

 صدر ممنون کاسیاسی قیادت کے مابین احترام اور مشاورت پر زور
01 جون 2014 (18:16)
0

 صدر ممنون حسین نے وفاق اور تمام صوبوں پر زوردیا ہے کہ وہ جمہوریت کے استحکام اور عوام کی خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں ۔
اُنہوں نے پیر کے روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسائل کا حل آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے تلاش کیاجانا چاہیئے ۔
صدر نے کہا کہ باہمی احترام ، صلاح مشورہ اور سیاسی قیادت میں مفاہمت کامیابی کا درست راستہ فراہم کرتے ہیں ۔
اُنہوں نے کہا کہ عوام نے پارلیمنٹ کو ووٹ دے کر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وہ اسکے بدلے میں اپنی فلاح وبہبود اور ملک کی پائیدار ترقی چاہتے ہیں ۔
ممنون حسین نے کہا کہ عوام کو لوڈ شیڈنگ ، مہنگائی اور دہشتگردی سمیت بے شمار مسائل کا سامنا ہے ۔ تاہم یہ امر باعث اطمینان ہے کہ حکومت یہ مسائل حقیقت پسندی اور فراست سے حل کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کارلارہی ہے ۔
صدر نے کہا کہ حکومت نے اپنے پہلے سال میں درست سمت میں اقدامات کئے ہیں ۔
اُنہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ، دو ار ب ڈالر کے یورو بانڈ کا اجراء ہوا، پاکستان کو یورپی یونین نے ترجیحات کے عمومی نظام کا اضافی درجہ دیا اور مالیاتی خسارے میں کمی ہوئی
صدر مملکت نے کہا کہ حکومت نے تھری جی اور فوری جی ٹیکنالوجی کی شفاف انداز میں نیلامی سے ایک ارب پچیس کروڑ ڈالر حاصل کئے ۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت دوست ملک چین سے توانائی اور بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے منصوبوں کیلئے پینتیس ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری لانے میں کامیاب ہوئی جبکہ خنجراب سے گوادر تک اقتصادی راہداری بھی جلد حقیقت بن جائے گی ۔
اُنہوں نے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے حکومت کی طرف سے بجلی کے اُنیس منصوبوں کے افتتاح کو سراہا۔
ممنون حسین نے وزیراعظم کی نوجوانوں کیلئے بلا سود قرض سکیم ، ہنر مندی کی تربیت کا پروگرام ، نوجوانوں کے تربیتی پروگرام اور ملک کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کیلئے فیس واپسی سکیم کے اجراء کو سراہا ۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشتگردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے بات چیت کا راستہ اپنایا۔
اُنہوں نے کہا کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور بین الاقوامی سلامتی کیلئے مسلح افواج کا اہم کردار ہے جس پر قوم کو فخر ہے ۔
ممنون حسین نے کہا کہ ملک میں ذرائع ابلاغ کو مکمل آزادی ہے تاہم مخصوص معاملات کے حوالے سے کام کے دوران قواعدو ضوابط پر عمل کرنا لازم ہے ۔
اُنہوں نے کہا کہ عدلیہ بھی آئین اور جمہوریت کی مرمت کی بقاء کیلئے اپنا کردار ادا کررہی ہے ۔
خارجہ پالیسی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ احترام ، وقار اور مساوات پر مبنی خوشگوار تعلقات چاہتاہے ۔
اُنہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے ۔
ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان ، افغانستان اور بھارت کی نئی قیادت کے ساتھ دوستانہ اور تعمیری تعلقات کا فروغ چاہتا ہے ۔
صدر نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے ۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے صدیوں پرانے تعلقات مضبوط بنانے کا بھی خواہاں ہے ۔
صدر نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی برادری میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے ۔
اُنہوں نے کہا کہ عالمی بنک ، آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بنک \\\'اقتصادی بحالی میں حکومت کی مدد کررہے ہیں ۔

 

صدر مملکت کی تقریر کا مکمل متن

آج کا دن میری زندگی کا ایک نہایت خوشگوار اور پُر مسرت دن ہے کیونکہ آج میں پہلی مرتبہ اس معزز ایوان میں آپ سے مخاطب ہوں ۔ آپ کے ساتھ میرا یہ رابطہ اور میری اس اجلاس میں شرکت میرے لئے بجا طور پر باعث اعزاز ہے ۔ میں اس موقع پر آپ سب کو پارلیمانی سال مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔
موجودہ دور میں ایک جمہوری معاشرہ کی شناخت اور مہذب دنیا میں اس کے مقام کا تعین کرنے کے لئے جو معیار مدنظر رکھے جاتے ہیں ان میں جمہوری اداروں، خاص طور پر پارلیمنٹ کی حیثیت ، کارکردگی، افادیت اور احوال قابل ذکر ہیں۔ جمہوریت کے تسلسل، فروغ اوراستحکام میں بھی پارلیمنٹ جو اہم کردار ادا کرتی ہے اس سے آپ سب بخوبی واقف اور آگاہ ہیں۔ یہ امر نہایت قابل تحسین ہے کہ وطن عزیز میں جمہوری قوتوں اور سول سوسائٹی نے جمہوریت کی بحالی اور شہری آزادیوں کے حصول کے لئے بے مثال قربانیاں دیں۔ اس جدوجہد میں، آپ سب شامل رہے اور آپ نے آزمائش کی ہر گھڑی میں استقامت اور صبر وتحمل سے کام لیا۔ ہم نے تجربات اور مشاہدات سے اس حقیقت سے آگاہی حاصل کی کہ جمہوریت کشیدگی ، محاذ آرائی، مخالفت برائے مخالفت اور انتقام کا نام نہیں بلکہ جمہوریت کی روح مفاہمت، عفو و درگذر، قوت برداشت اور باہمی تعاون سے عبارت ہے۔ جمہوریت کی شان یہی ہے کہ اکثریت کی رائے کا احترام کیا جائے، شخصیات پر قومی اداروں کو فوقیت دی جائے اور جماعتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح حاصل رہے۔ اس تناظر میں جب ہم اپنے جمہوری اداروں اور خاص طور پر پارلیمنٹ کی گذشتہ ایک برس کی کارکردگی پر نگاہ کرتے ہیں تو بجا طور پر اطمینان بخش، حوصلہ افزاء اور خوشگوار منظر نامہ دکھائی دیتا ہے جس کے لئے جملہ ارکان پارلیمنٹ میری اور پوری قوم کی داد و تحسین کے بجا طور پر مستحق ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آپ نے وطن عزیز میں جمہوریت کو ایک نئی جہت سے متعارف کرایا اوریوں ایک ایسی مثال قائم کی جو آنے والی ہر نسل کے لئے یقینی طور پر قابل تقلید تصور کی جا سکتی ہے ۔
جمہوریت میںپارلیمانی اپوزیشن کا ایک کلیدی کردار ہوتا ہے۔ جمہوریت کا استحکا م اور مستقبل اپوزیشن کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ مجھے یہ خوشی ہے کہ اپوزیشن نے اپنا یہ کردار بخوبی ادا کیا اور ہر مسئلہ میں حکومت کی رہنمائی کی ہے جس پر وہ مبارک باد کی مستحق ہے ۔
یہ حقیقت کسی تشریح یا تفصیل کی ہر گز محتاج نہیں ہے کہ قوم کو اپنی پارلیمنٹ سے بے پناہ اور بے شمار توقعات وابستہ ہیں۔ یہ ایک فطری اور قدرتی امر ہے کہ جہاں پر اعتبار اور اعتماد کا رشتہ استوار ہوتا ہے، وہاں پر توقع اور امید بھی ضرور بندھ جاتی ہے۔ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے نہ صرف اپنا سیاسی فیصلہ سنایا بلکہ انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ آپ پر اپنے اعتماد کا اظہار بھی کیا چنانچہ عوام بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ آپ ان کی ترقی و خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کریں ، آپ ملک و قوم کی سلامتی اور خود مختاری کے حوالے سے سیاسی سطح پر متحرک اور مستعد رہیں۔ اس باب میں یہ بات نہایت بنیاد ی حیثیت رکھتی ہے کہ آپ مملکت خداد اد کی نظریاتی اساس سے وفاداری اور وابستگی کا رشتہ استوار رکھنے کے لئے دل و جان سے تیار اور سرگرم عمل ہوں۔
جب میں اس حقیقت کا مشاہدہ کرتا ہوں کہ اہل وطن کا سیاسی شعور نہایت وسیع اور پختہ ہے تو مجھے بے پناہ دلی مسرت محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے عوام کو بخوبی علم ہے کہ حالات حاضرہ کے نشیب و فراز کے تناظر میں ان کی اور ان کی حکومت کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟۔ ہمارے عوام جانتے ہیں کہ ہمارے خطہ میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ان کے اثرات کا سامنا کیونکر کیا جا سکتا ہے اور کیونکر کیا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے بعض امور ایسے ہیں جن کی طرف میں آپ کی اور اپنے عوام کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں ۔
اقتصادی اور معاشی استحکام کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا کوئی تصور ممکن نہیں ہے اور اس سلسلہ میں سرمایہ کاری کی وہی اہمیت ہے جو کسی ویران زمین کو گلزار میں تبدیل کرنے کے لئے آبیاری کی ہوتی ہے۔ اس سلسلے میںموجودہ حکومت جو کوششیں کر رہی ہے وہ نتیجہ خیز دکھائی دیتی ہیں ۔
پاکستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا ہے ان سے نجات دلانے کے لیے اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اس مسئلہ کا حل ضروری ہے اور ہم نے اس اہم ترین مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ڈائیلاگ کا راستہ چنا ۔
پاکستانی ایک پرامن قوم ہیں اور اسی جذبہ کے تحت ہم دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ، خاص طور پر اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ برابری ، باہمی احترام اور عزت و وقار کیبنیاد پر دو طرفہ تعلقات کے داعی ، حامی اور خواہاں ہیں۔ ہم افغانستان اور بھارت کی نئی سیاسی قیادت کے ساتھ دوستانہ اور تعمیری تعلقات کو فروغ دینے کے لئے منتظراور تیار ہیں۔ حال ہی میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھارت کے نئے منتخب وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر ان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ یہ شرکت دراصل اس اعتبار سے تاریخ ساز اور قابل ذکر رہی کہ مہذب دنیا میں اس فیصلے کے پیچھے کارفرما جذبے کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ یہ اس حقیقت کی بھی دلیل ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
ہم ایران کے ساتھ اپنے صدیوں پرانے تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ گذشتہ دنوں وزیراعظم محمد نواز شریف صاحب نے ایران کا دورہ کیا جو حقیقی معنوں میں با معنی اور کامیاب ثابت ہوا۔ دونوں ممالک کی قیادت کا مشترکہ مؤقف اور سوچ یہی ہے کہ ہمارے باہمی ، قریبی اور برادرانہ تعلقات علاقے کے امن اور دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی کے لئے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ انشا ء اللہ تعالیٰ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ایک دن ضرور پایہ تکمیل کو پہنچے گا اور یہ ہماری دوستی کی جڑوں کو مزید مستحکم اور مضبوط کرے گا۔ ہم اپنے عظیم پڑوسی ملک چین کے ساتھ تعلقات کی وسعت اور جامعیت سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ ہمیں احساس ہے کہ پاک، چین دوستی اب روایتی سفارتی بندھن نہیں بلکہ یہ عصر حاضر میں دو ہمسایہ ممالک کے مثالی تعلقات کا لازوال اور زندہ استعارہ بن چکی ہے۔ عالمی برادری کو خوب معلوم ہے کہ پاکستان اور چین کے عوام حقیقی معنوں میں یک جان، دو قالب ہیں۔

ہم پاکستانی یورپی یونین کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں اپنی منڈیوں تک رسائی فراہم کی، ہم امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں ۔ ہمارے یہ تعلقات باہمی احترام اور عزت کی بنیاد پر قائم ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عالمی امن کے استحکام کے باب میں پاکستان اور امریکہ کا تعاون تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ہم نے ملک و قوم کی ترقی کے لئے صحیح سمت میں اور حقیقت پسندی کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے جو سفر شروع کیا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ عالمی برادری میں ہماری توقیر اور پذیرائی میں اضافہ ہو رہا ہے چنانچہ سعودی عرب، بحرین ، برطانیہ ، جنوبی کوریا کی ممتاز شخصیات سمیت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ہمارے ملک کا دورہ کیا اور ہمارے ترقیاتی منصوبوں پر اظہار اطمینان کیا۔دوسری طرف
ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے ہماری اقتصادی کوششوں پر اعتماد کرتے ہوئے ہمیں مالی امداد اور قرضہ کی سہولت فراہم کی ۔ عالمی برادری کی طرف سے ہماری حوصلہ افزائی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے ہماری اقتصادی پالیسیوں پر کیا گیا اعتماد، بلاشبہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم اپنی منزل کی جانب پوری تندہی ، محنت اور خلوص نیت کے ساتھ گامزن ہیں ۔

تاریخ کی مسلسل اور اٹل گواہی ہے کہ کوئی قوم راتوں رات اپنے نصب العین کے حصول میں کامیاب نہیں ہوتی، کوئی قوم محنت اور مشقت کے بغیرتاریخ کے صفحات میں اپنا ذکر اجاگر اور نمایاں نہیں کر سکتی اور ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی قوم اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہے اور خوشحالی اس کے قدم چومنے کے لئے خود اس کے پاس چلی آئے۔کامیابی کبھی جھولی میں آ کر نہیں گرتی بلکہ یہ ان کے ہاتھ آتی ہے جو میدان عمل میںجہدِ مسلسل کرتے ہیں۔میں اس موقع پر قرآنی مفہوم پر مبنی ایک شعر کے ذریعے اپنی بات کو زیادہ واضح کرنا چاہتا ہوں
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
قومی تشخص کو برقراررکھنے کے لئے ایثار اور محنت اولین شرط ہے ۔اپنی خود مختاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہمیں اپنے قائد ، بانی پاکستان محمد علی جناح کا یہ فرمان ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہیے : اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم ۔
درپیش مسائل کو حل کرنے ا ور مشکلات پر قابو پانے کے لئے اجتماعی جدوجہد، باہمی تعاون اور مفاہمت ناگزیر ہیں۔آج ہمیں ایک مرتبہ پھر اسی جذبہ اور اتحاد سے کام لینا ہے جس کا مظاہرہ تحریک پاکستان کے دنوں میں کیا گیا تھا۔ ہمیں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ایک ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہے جس سے ٹکرانے والا خود پاش پاش ہو جائے۔ ہمیں فرقہ واریت صوبائی عصبیت ، لسانی امتیازات اور علیحدگی پسندی سمیت دہشت گردی اور اشتعال انگیز نظریات سے اپنے سوچ اور عمل کے دامن کو بچا کر رکھناہے ۔

آج ساری مہذب دنیا کے مبصرین اور تجزیہ کاروں کی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہیں کیونکہ اس کی 66برس کی آزادی کے عرصہ میں اس منظر کا پہلی مرتبہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ ایک منتخب جمہوری حکومت نے اپنی مقررہ آئینی مدت مکمل کی اور اس کے بعد دوسری منتخب جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت کا پہلا برس کامیابی سے مکمل کیا۔ مجھے اعتراف اور احساس ہے کہ ہنوزعوام کو لوڈ شیڈنگ، مہنگائی ، بیروزگاری اور دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا ہے لیکن مجھے یہ باور کرانا ہے کہ ان مسائل کوحل کرنے کے لئے میسر قومی وسائل کو نہایت دانشمندی ، حقیقت پسندی اور دور اندیشی کے ساتھ بروئے کار لایا جا رہا ہے۔بے روزگار افراد کو رزق حلال کمانے کے مواقع فراہم کرنے کے لئے بلاسود قرضہ جات کی سہولت دی جا رہی ہے ، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے منصوبوں کی تکمیل کی رفتار کو تیز کیا جارہا ہے اور ایسی اقتصادی پالیسیاں ترتیب دی جارہی ہیں جو ملکی مفادات کے اعتبار سے نتیجہ خیز ثابت ہوں ۔اس تناظر میں ، میں ان چند اہم نکات کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں جو حکومت کی ایک سال کی مختصر مدت کے حوالے سے نہایت قابل ذکر ہیں اور یہ اقدامات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم ایک پرعزم اور حوصلہ مند قوم کی حیثیت سے درست سمت میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔
یہ بات ہر پاکستانی کے لئے نہایت حوصلہ افزاء ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کا سلسلہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ اقتصادی حکمت عملی کے تحت جو اقدامات کئے گئے ان میں یورو بانڈز کی کامیابی ، یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کے لئے جی ایس پی پلس سٹیٹس کا حاصل ہونا ، مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ، بجٹ خسارہ میں مسلسل کمی اور ٹیکسٹائل کی برآمدات میںاضافہ قابل تحسین ہے۔ہم یورو بانڈز کو 7ارب ڈالرز کی حد تک لے جانے کی گنجائش رکھتے تھے لیکن حقیقت پسندی کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ہم نے اس کو 2ارب ڈالر تک محدود رکھا ۔ ان ہی اقدامات کے نتیجہ میں اب ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی کھپت کے امکانات بھی روشن ہو رہے ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری کے حوصلہ افزاء امکانات یوں بھی روشن دکھائی دیتے ہیں کہ حال ہی میں تھری جی اور فور جی کی شفاف ترین نیلامی کے ذریعے تقریباً سوا ارب ڈالر کی آمدنی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ملک میں مواصلاتی انقلاب کا راستہ بھی ہموار ہوا۔ دوست ملک، چین کی طرف سے توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر 35ارب ڈالر کا منصوبہ تیار کیا گیا اور اس کے علاوہ خنجراب تا گوادر اکنامک کوریڈور کا منصوبہ بھی انشاء اللہ حقیقت کا روپ اختیار کرے گا ۔ایسی خبر اور حقیقت ہر پاکستانی کے لئے بجا طور پر اطمینان اور خوشی کا باعث ثابت ہوتی ہے کہ ہمارے اقتصادی اعشارئیے مستحکم ہو رہے ہیں اور اسی طرح پاکستانی روپے کی قیمت میں بھی حوصلہ افزاء استحکام آ رہا ہے ۔
اقتصادی ترقی کے عمل کو درست سمت میں آگے بڑھانے اور ملک و قوم کی خوشحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے بھی ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں یہ بات نہایت قابل ذکر ہے کہ حکومت نے گردشی قرضوں کو ختم کر کے نیشنل گرڈ میں 17سو میگا واٹ بجلی کا اضافہ کیا۔24ہزار 8سو 70میگا واٹ بجلی کے 19منصوبوں کا آغاز کیا گیا جبکہ نندی پور پاور پلانٹ کو 7ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا۔ ورلڈ بینک کی جانب سے توانائی کے منصوبوں اور مالیاتی اصلاحات کے لئے 12ارب ڈالر کا اعلان کیا گیا جبکہ جامشورو پاور پلانٹ کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی طرف سے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اقدامات ہمارے ملک کو لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں سے نجات دلانے کے لئے نتیجہ خیز ثابت ہوں گے ۔
نوجوانوں کے لئے ایسی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں جو نہ صرف ان کی تعلیمی اور تحقیقی ضروریات کو پورا کریں بلکہ ان کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے ، بے روزگاری سے محفوظ رکھنے اور وطن عزیز کا حقیقی معنوں میں سرمایہ بنانے میں معاون ثابت ہوں۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم کی یوتھ بزنس لون سکیم ، وزیراعظم کی بلا سود قرضہ سکیم ، وزیراعظم کا یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام ،اور وزیراعظم کی یوتھ ٹریننگ سکیم قابل ذکر ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ کم ترقی یافتہ علاقوں کے طلباء کو ان کی تعلیمی فیس کی واپسی کی سکیم کا آغاز بلوچستان سے کیا جا چکا ہے اور ابتدائی طور پر اس سے 30ہزار طلباء استفادہ کریں گے جن کو ہر سال اوسطاً 40ہزار روپے بطور تعلیمی فیس ادا کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ذہین اور محنتی طلباء کو لیپ ٹاپ کی فراہمی بھی قابل ستائش ہے۔یہ بات بھی نہایت حوصلہ افزاء ہے کہ ان تمام سکیموں میں خواتین کو 50فیصد حصہ دیا جائے گاجس کے نتیجہ میں نہ صرف خواتین زیادہ با اختیار ہوں گی بلکہ ان کو ہم قومی دھارے میں شامل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ ہم خواتین کو معاشرہ کا ایک ایسا متحرک اور فعال رکن دیکھنا چاہتے ہیں جو ترقی اور خوشحالی کے عمل میں مساوی کردار ادا کرتا ہے ۔ خواتین اس وقت بھی مختلف شعبوں میں جس کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں وہ اس اعتبار سے نہایت قابل ذکر ہے کہ یہ نئی نسل کے لئے حوصلہ افزاء اور قابل تقلید مظاہرہ ہے ۔

قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان تعاون اور افہام و تفہیم کی فضاء کو برقرار رکھنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے دشمنہمارے درمیان نفاق اور انتشار پھیلانے کے لئے سرگرم عمل ہیں ، ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اعتماد قائم رکھنا ہے۔ ہماری تمام تر توجہ اپنے عوام کے مسائل کو حل کرنے پر مرکوز ہے ۔ یہ امر نہایت حوصلہ افزاء ہے کہ ہمارے تمام سول اور عسکری ادارے بڑی خوش اسلوبی اور حب الوطنی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور دفاع کی ذمہ داری کو ہماری مسلح افواج جس احسن طریقے سے ادا کر رہی ہیں اور دیگر عسکری ادارے جس جانفشانی کے ساتھ دن رات کام کر رہے ہیںاس پر پوری قوم کو فخر ہے ۔
افواج پاکستان نہ صرف ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ اب داخلی سکیورٹی میںبھی ان کا اہم رول سامنے آیا ہے۔ انھوں نے ہمارے اور آپ کے مستقبل کے لیے ہزاروں قربانیاں دی ہیں۔ سر حدوں کے علاوہ داخلی حفاظت کو بھی یقینی بنانا ہو گا۔
یہاں میں ملک کے عوام اور خصوصاً فاٹا کے عوام کے حوصلے اور شجاعت کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جو پاکستان کے دفاع کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں اور کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔یہ امر باعث اطمینان ہے کہ حکومت فاٹا کے عوام کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔

آج پاکستان میں سول سوسائٹی نہایت بیدار اور متحرک ہے ۔ سول سوسائٹی کے اس کردار کو قومی تقاضوں اور عوامی امنگوں کی روشنی میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے لہذا میں سول سوسائٹی سے بجا طور پر توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنا یہ کردار ادا کرتے وقت اور اپنی ترجیحات کا تعین کرتے وقت ملکی قانون، قومی روایات، سماجی مزاج اور عوامی احساسات کوخاص طور پر مدنظر رکھے ۔ اس سے نہ صرف اِس کی ساکھ اور حیثیت میں اضافہ ہو گا بلکہ وہ رائے عامہ کی تشکیل میں اپنا حقیقی کردار مثبت انداز میں ادا کر سکے گی۔وطن عزیز میں میڈیا بھی پڑتال او ر نگہبانی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ میڈیا بلاشبہ آزاد ہے او راس کی یہ آزادی دنیا کے کئی ممالک کے لئے مثال کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اہل وطن محسوس کرتے ہیں کہ میڈیا کو اپنی آزادی کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں اور حدود کا یکساں طور پر احساس کرنا چاہیے۔ حکومت میڈیا پر کسی قسم کی پابندی کا تصور بھی نہیں کر سکتی البتہ وہ یہ توقع ضرور رکھتی ہے کہ میڈیا اپنے طور پر اپنے لئے ایسا ضابطہ اخلاق مرتب کرے اور اس پر عمل کرے جس سے قوم کے وقار میں اضافہ ہو اور عوام میڈیا کو اپنی امنگوں کا حقیقی ترجمان اور نمائندہ تسلیم کریں۔ عدلیہ کی کارکردگی کسی تبصرہ کی محتاج نہیں ہے ، وہ آئین اور جمہوریت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر اپنی روایات کو نئے اعتبار سے مزین کر رہی ہے ۔
مجھے یہ نشاندہی کرتے ہوئے انتہائی مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ ہمارے یہاں اقلیتوں کو شہری کی حیثیت سے برابر کے حقوق حاصل ہیں اور ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔ ہم اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ اقلیتوں نے ملک کی تعمیر و ترقی میں ایسا کردار ادا کیا ہے جو قابل تحسین اور قابل اطمینان ہے ۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اقلیتوں کو سماجی اور سیاسی حقوق دینے کے ساتھ ساتھ ان کو مذہبی حوالہ سے بھی تحفظ فراہم کیا جائے ۔ حکومت اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کے سلسلہ میں اپنا فرض خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کر رہی ہے، اسی طرح وہ اپنے عقائد کے مطابق اپنی مذہبی رسومات اور تقریبات کے ضمن میں آزاد ہیں۔ ہمارا اقلیتوں کے بارے میں وہی نظریہ اور سوچ ہے جس کا اظہار بانی پاکستان ، قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی 11اگست کی تقریر میں کیا تھا۔ اقلیتوں کے حقوق کے ضمن میں ہم اپنے قائد کے ویژن کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں اور اس سلسلہ میں اقلیتوں کا تعاون اور کردار بھی قابل تعریف ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں مذہبی اعتبار سے رواداری ، صبر و تحمل اور برداشت کے جذبہ کو فروغ دیا جائے اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے جو مذہبی امتیازات کو ہوا دینے یا اس سلسلہ میں عوام کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان میں آئین کی بالا دستی اور جمہوریت کی ترقی لازم و ملزوم ہو چکی ہیںاور تمام مسا ئل کا حل آئین کے اندر رہتے ہوئے مروجہ جمہوری طریقے کے ذریعے ڈھونڈنا ہے آئین میں تمام پارلیمانی سیاسی قوتوں کا رول موجود ہے یہ وہ آئینی ڈھانچہ ہے جس کے ذریعے وفاق اور وفاقی اکائیوں نے مل کر اپنے مسائل کا حل ڈھو نڈنا ہے اور عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کے کام کرنا ہے۔ جمہوریت ، قانون اور آئین کی بالادستی پاکستان کا حال ہے اور یہی پاکستان کا مستقبل ۔
مجھے اس معزز ایوان اور اس کے توسط سے پوری قوم کی توجہ اس حقیقت کی جانب مبذول کرانا ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کا تسلسل او رفروغ نہ صرف ایک قومی تقاضا ہے بلکہ یہ ہماری ملکی سلامتی ، قومی وقار اور سیاسی تشخص کے لئے بھی نہایت اہم ہے ۔ جمہور ی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم افہام و تفہیم اور باہمی احترام کو اپنا شعار بنائیں ۔ سیاست میں مفاہمت کا راستہ ہی دراصل کامیابی کا راستہ ہے ۔ یہ سیاسی سفر میں ایک ایسا سنگ میل ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مفاہمت ایک ایسی کلید ہے جس سے سیاسی مسائل اور مشکلات کے بند دروازے کامیابی کے ساتھ اور آسانی کے ساتھ کھولے جا سکتے ہیں۔ میرے لئے یہ مشاہدہ انتہائی حوصلہ افزاء اور خوشگوار ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے سیاسی اور آئینی سطح پر نہایت مثبت اور قابل تحسین کردار ادا کر رہے ہیں۔  یہ مظاہرہ ان عناصر کے لئے ایک قابل تقلید مثال ہے جو گاہے سیاست کے میدان میں کشیدگی اور محاذ آرائی کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہاں پر میں ریاستی اداروں سے یہ بات ضرور کہوں گا کہ وہ ملکی قوانین کے تحت اپنے فرائض سر انجام دیں۔ وہ سیاسی پسند و ناپسند کو اپنی کسوٹی نہ بنائیں۔ قانون کی نظر میں ہر علاقہ کے عوام برابر ہیں، ان کی زبان، رنگ ، نسل ، سیاسی وابستگی اور خاندانی پس منظر ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاک سرزمین کا ہر باشندہ اور ہر شہری سب سے پہلے پاکستانی ہے اور اس کے بعد اس کی کوئی دوسری حیثیت اجاگر ہوتی ہے۔ اسلام نے اپنی عالمگیر اور ابدی تعلیمات میں انسانوں کے درمیان مساوات سے کام لینے کا جو درس دیا ، پاکستان میں اس کی عملی تصویر دکھائی دینی چاہیے۔ ہمیں دنیا پر یہ ثابت کرنا ہے کہ پاکستان محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ یہ ایک نظریہ کا نام ہے ۔ اس کے حصول کا مقصد اقتدار ، مفادات اور تعصبات ہر گز نہ تھے بلکہ اس کے قیام کے لئے کی گئی پرامن سیاسی جدوجہد کا نصب العین یہ رہا کہ ہم پاکستان کو اسلامی تعلیمات اور نظریات کا عملی گہوارہ بنا سکیں۔ ہم دنیا پر یہ ثابت کر سکیں کہ اسلامی افکار اور تصورات کو حقیقت کا روپ دیا جا سکتا ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ اگر آج ہم نظریاتی اور فکری سطح پر خود کو اسلام اور پاکستان کے لئے وقف کر دیں تو ہم دین او ر دنیا ، دونوں میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔
آئیے ، ہم آج عہد کریں کہ :
٭ ہم پاک سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کر کے دم لیں گے ۔
٭ ہم اپنے ریاستی اداروں کے درمیان تعاون اور اتحاد کوفروغ دیں گے کیونکہ ان کا استحکام ، ریاست کا استحکام ہے۔
٭ ہم جمہوریت کی بقاء اور استحکام کو یقینی بنانے کے لئے اپنے سیاسی اور جماعتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیں گے۔
٭ ہم کرپشن ، استحصال ، نا انصافی اور عدم مساوات کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کریں گے ۔
٭ ہم ملک میں مذہبی، نظریاتی اور فکری ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کریں گے ۔

میں آپ سب کا ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے نہایت توجہ اور تحمل کے ساتھ میری معروضات کو سماعت کیا۔
رب العزت سے دعاگو ہوں کہ وہ ہمیں اپنے پیارے پاکستان کی خدمت کرنے کی توفیق اور استطاعت عطاء فرمائے۔
٭ ہمیں آپس میں محبت اور اخوت کے ساتھ رہنے کا جذبہ عطاء فرمائے ۔
٭ ہمیں پاکستانیت کی جیتی جاگتی تصویر بنائے ۔