پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے اگلے36 سال کے دوران ایٹمی بجلی گھروں کے ذریعے بجلی کی پیداوار 42 ہزار میگاواٹ تک پہنچانے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے  ۔

01 فروری 2014 (20:57)
0

 یہ بات ہفتہ کے روز اسلام آباد میں اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین  ڈاکٹر انصارپرویزنے ملک کے ایٹمی پروگرام اور ایٹمی تحفظ پرذرائع ابلاغ کی ایک ورکشاپ کے دوران اپنے خطاب میں بتائی ۔
 انہوں نے بتایا کہ کمیشن کو 2030ء تک8800 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف دیاجاچکا ہے اورامید ہے کہ مقررہ مدت کے اختتام تک بجلی کی پیداوار 42 ہزار میگاواٹ تک پہنچانے کاہدف حاصل کرلیاجائے گا۔
کمیشن کے چیئرمین نے کہا کہ پانی کے بعد ایٹمی توانائی سے بجلی کا حصول سب سے سستا ہے اور یہ طریقہ آلودگی کاباعث بھی نہیں بنتا  ۔
 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ملک میں ایٹمی بجلی گھروں کی تیاری  کیلئے کثیر سرمایہ درکار ہے لیکن اگر فیصلہ کرلیاجائے تو  ہم اس کی  بھی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
کمیشن کے اعلی انجینئروں اور سائنس دانوں نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے ایٹمی بجلی گھروں میں تحفظ کے جدید ترین طریقے اختیار کررکھے ہیں۔